خُدا اور محبت
خُدا اور محبت
آج بہت عرصے بعد محبت پہ لکھنے کو دِل چاہا لیکن شائدلازوال اور ابدی محبت کے بارے میں لکھنا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ پر اِس خاکی اِنسان نے ہمیشہ اپنی بساط سے بڑھ کر کُچھ کرنے کو بہتر جانا یا پھر یوں کہنا بہتر ہو گا کہ اِسی بات سے اِنسان نے اپنی بساط کی حدود و قیود کا تعین کیا۔ لیکن کہاں میں اور میری ادھوری تحریریں اور کہاں یہ خُدائی وصف۔
اوراگر میں غلط نہی کہ رہا توخدا تعالیٰ نے انسان کو جب اپنا نائب مقرر کیا تو اُسے اپنے کُچھ اوصاف سے بھی نوازا جِن میں ایک محبت بھی تھا۔ اویہی وہ پاکیزہ وصف ہے جِس سے انسانیت کی معراج کو بھی پایا جا سکتا ہے۔ جب خدائے کریم نے اِس وصف کو خاکی اِنسان کے دِل میں اُتارا تو بنیِ نوعِ انسان نے اِسی پاکیزہ وصف سے قُربِ خدا کو پا لیا اوریوں معراجِ انسانیت کو پا یا۔
پھر شاید مُحبت کےقطعی مفہوم کو وقت کے جھمیلوں نے دھندلا دیا اورپھر کُچھ یوں ہوا کے باقی پاکیزہ اوصاف کی طرح بنیِ نوعِ انسان نے اِسے بھی وقتی نظریات اور نفس پرستی کے بوجھ تلے دفن کر دیا۔ اِس وقتی نظریے کے عدسے سے اِس پاکیزہ وصف کو دیکھنے کا نتیجہ بھی باقی اوصاف سے کُچھ زیادہ مختلف نہ تھا۔ انسان نے اِس مسخ شُدہ نظریہ محبت سے جب قربِ خُدا حاصل کرنا چاہا تو اُسے تمام رستے جو کبھی نور کے قمقموں سے مزین تھے نظریہ ضرورت کی دھند سے اَٹے نظر آئے اورپھر اِنسان اِن وقتی نظریات اور گردشِ ایام کا شترِ بے مہار بن گیا۔
اِس مشینی دور میں محبت کے بارے میں سوچوں تو یہ دنیا ایک عجب ماتم کِدہ معلوم ہوتی ہے جہاں سب”مُردہ” لوگ واویلا مچاتے ہویے محبتِ کی جِلا پانے کی تگو دو میں ہیں۔ شائد محبت بارش کا پہلا قطرہ ہے جو جزب تو کسی ایک جگہ ہوتا ہے لیکن امیدِ جاودانی پوری بنجر زمین کو عطا کر دیتا ہے۔ یہی امید انسان کو زندگی کی غلام گردشوں کا مسافر بنا دیتی ہے اور پھر اِن دھند سے اٹے رستوں میں اِنسان کی منزل ہی سفر بن کر رہ جاتی ہے یا شائد زندگی ہی محبت ہے جیسا کہ ایک فلسفی مجازی محبت کے بارے میں کُچھ یوں لکھتے ہیں:
“وہ ذندگی کی طرح ہی کی ہے جس پر سب کا قبضہ ہے اور موت کی طرح وہ ہر ایک کو مسخر کر لیتی ہے۔۔۔۔۔ اور ابدیت کی طرح ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے
