!ھم کلامی ۔ تواز ن
!ھم کلامی ۔ تواز ن
مغرب میں میرے قیام کے دوران میں جِس جگہ ٹھہرا وہ ایک ادھیڑعُمر چائینیز خاتون کی ملکیت تھی۔ ایک دِن میں اپنی رہائش سے باہر نکلا تو دیکھا کہ وہ دو چھڑیوں کے سہارے اُلٹے قدموں چلنے کی مشق کر رہی تھی۔ بوجہِ تجسُس میں نے اُس سے اِس بارے میں پوچھا تو وہ یوں گویا ہوئی۔ “میاں ! مُجھے کُچھ روز سے چلنے پھرنے میں دشواری ہو رہی تھی توکل ڈاکٹر کے پاس معائنے کے لئے گئی تھی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ تُمہارے دماغ کا ایک حصہ غالبا ‘سیریبلم’ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر رہا ،اُس کی وجہ سے تمہارے جِسم کا توازن بگڑتا چلا جائے گااور اگر ایسا ہی چلتا رہا تو تُم شائد چل پھر نہ سکو”۔ ڈاکٹر نے کسی دوا کی بجائے یہ ورزش تجویز کی ہے کہ چھڑیوں کے سہارے اُلٹے قدموں چلو، تو آج اُسی کی مشق کر رہی ہوں۔
کہ میرے الفاظ شائد بانجھ ہوتے جا رہے ہیں اور میں اِنکو جِلا دینے کی تگ ودو میں کہیں اپنے آپ سے دور نکل آیا ہوں۔ کہ میں شعورو لاشعور کی جنگ میں شائد خود سے ہی ہار کر کِسی شکست خوردہ سپاہی کی مانندپناہ کی تلاش میں سرگرداں ہوں۔ کہ اِس مکاں و لامکاں کے رموز میں شائد میری ذات اِک پرچھائی سے بڑھ کر کُچھ بھی نہیں اور وہ پرچھائی بھی گردابِ مسلسل میں ہے۔ کہ میری کم ظرف منطق نے شعور کے تشخص کو کہیں دھندلا سا دیا ہے اور اِس بڑھتی ہوئی دُھند نے میری قوتِ اعتقاد کو کہیں مسخ کر دیا ہے۔
میں نے پوچھا! پچھلے قدموں چلنا کُچھ مشکل نہی ہوتا؟ تووہ کُچھ یوں گویا ہوی۔ ” مُشکل تو ہے پر توازن برقرار رکھنے کے لیئے کرنا تو پڑے گا”۔
تو میاں بات یہ ہے کہ کئی دفعہ ذندگی اور رشتوں میں بھی تواذن برقرار رکھنے کے لئیے اِنسان کو اُلٹے قدموں چلنے جیسا مُشکل کام بھی کرنا پڑتا ہے۔ تیز دوڑنے والا گھوڑا باقی سب ہم نسلوں کو پیچھے تو چھوڑ جاتا ہے پر اُس دوڑ میں جیت کر بھی اپنے ہی ہم نسلوں کو ہرا دیتا ہے۔
