!ہم کلامی ۔ (داستان گوئی ۔ حقیقتِ حیات)
!ہم کلامی ۔ (داستان گوئی ۔ حقیقتِ حیات)
داستان گوئی بڑا ہی غضب کا فن ہے جِس میں فنکار ہی شائد فن پارے کی شکل ڈھال لیتا ہے۔ اور یہی داستانیں شائد کہیں نہ کہیں ہماری داستانِ حیات پربھی اثر کرتی ہیں اور ہماری زندگیوں کو کسی سانچے میں ڈالنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بلکہ ہماری ذندگی بھی تو کہانی کا دوسرا نام ہی تو ہے ، توشائد ہم سب ہی داستاں گو ٹھہرے۔
بچپن میں ہمارے گاوں میں تانگے چلتے تھے جو سواریوں کو لاری اڈے سے گاوں تک لانے کا کام سر انجام دیتے تھے۔ انہی تانگوں میں ایک ٹوٹا پھوٹا تانگہ “بابا رحمت” کا تھا، جِسے ایک مریل سی گھوڑی کھینچتی تھی۔پیدل چلنے یا بابا رحمت کے تانگے پر بیٹھنے میں کُچھ ذیادہ فرق نہ تھا۔ دو میل کا فاصلہ جو پیدل ۲۵ منٹ میں طے کیا جا سکتا تھا بابا رحمت کا تانگہ ۲۰ منٹ میں طے کرتا۔ لیکن خُدا نے بابا رحمت کو داستان گوئی کے فن سے کمال نوازا تھا۔ تانگے پر بیٹھتے ہی بابا رحمت ایک داستان شروع کر دیتے اور تانگے پہ سوار لوگ شکستہ حالت سڑک اور ٹوٹے پھوٹے تانگے کی اُٹھک بیٹھک کو بھول کر بابا رحمت کی داستان میں کُچھ ایسے محو ہو جاتے کے وقت گُزرنے اور راستہ طے ہونے کا کُچھ پتہ ہی نہ چلتا اور یوں لگتا کہ جیسے شائد وقت تھم سا گیا ہو۔
بابا رحمت کہانی کو کُچھ یوں لے کر چلتا کہ سفر ختم ہونے سے کُچھ لمحے پہلے کہانی بھی ختم ہو جاتی۔ اُس کے پاس ہر طبقہ فکر اور ہر عُمر کے لوگوں کو محظوظ کرنے کے لیے کہانیاں تھیں اور میں اپنے بچپن کے تقریبا” بیس سال اِنہی کہانیوں کو سُنتے ہوئے پروان چڑھا۔ بابا رحمت اور دوسرے بہُت سے داستان گووٗں نے نہ صرف میری بکھرتی ہوئی شخصیت کی عمارت کو داستانوں کے ستونوں سے سہارا دیا بلکہ شائد ذندگی کے اُٹھک بیٹھک والے راستوں پہ اپنی داستان گوئی سے مُجھے آج بھی میرے تخیل میں محظوظ کر رہے ہیں۔
تو اے میرے ہم نوا ۔ ذندگی ایک داستان ہے اور اگر ناخدا ایک اچھا داستاں گو ہو تو ذندگی کے پُر پیچ رستوں پہ سفربھی انسان کو محظوظ کرتا ہے۔ کیونکہ ذندگی بھی ایک نہ ختم ہونے والی کہانی کا دوسرا نام ہے اور داستاں گو کا ساتھ ہی اِنسان کو اپنی اور دوسروں کی داستانوں میں ایک ایسا ربط تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے جو انسانیت کی یگانگت کہ بنیاد ہے۔
