Post

!ہم کلامی ۔ میں ڈرتا ہوں

!ہم کلامی ۔ میں ڈرتا ہوں

Darna

!میں ڈرتا ہوں

کہ میرے الفاظ شائد بانجھ ہوتے جا رہے ہیں اور میں اِنکو جِلا دینے کی تگ ودو میں کہیں اپنے آپ سے دور نکل آیا ہوں۔ کہ میں شعورو لاشعور کی جنگ میں شائد خود سے ہی ہار کر کِسی شکست خوردہ سپاہی کی مانندپناہ کی تلاش میں سرگرداں ہوں۔ کہ اِس مکاں و لامکاں کے رموز میں شائد میری ذات اِک پرچھائی سے بڑھ کر کُچھ بھی نہیں اور وہ پرچھائی بھی گردابِ مسلسل میں ہے۔ کہ میری کم ظرف منطق نے شعور کے تشخص کو کہیں دھندلا سا دیا ہے اور اِس بڑھتی ہوئی دُھند نے میری قوتِ اعتقاد کو کہیں مسخ کر دیا ہے۔

کہ میں اپنے ہی من کی غُلام گردشوں میں محوِرقص ہوں جِیسے اِک طائرِ مقید۔ کہ صناعتِ شب وروز سے دشتِ تنہائی میں بھٹکنا بھی زندگی کا حصہ قرار پایا۔

ہاں میں ڈرتا ہوں کہ شائد کسی بھی سوال کا جواب میرے پاس نہیں ہے۔

کہ نہ ہی میرا قلب پاک ہوا اور نہ ہی گدائے درِ خُدا بنے کا ہنرسیکھ پایا۔ شائد دِل کا آنگن ہی صاف نہیں اوراِس راہ کی پہلی منزل ہی یہی ہے بُلھیا ! قول الف دے پورے جیہڑے دل دی کرن صفائئ

This post is licensed under CC BY 4.0 by the author.