عید
عید
آج عید ہے، ہاں وہی عید جسکا الفاظ کے تانوں بانوں میں مفہوم 'خوشی' ہے. خوشی کی کھوج لگانا چاہی تو شائد کہیں سے آواز آئی کہ اپنوں کی قربت کا نام ہی تو خوشی ہے. لیکن دیارِ غیر میں اس 'خوشی' کو ڈھونڈنا تو شائد خام خیالی ٹھہرا.
پھر خیال آیا کہ یہ الفاظ کا تانا بانا ہی تو ہے، چلو آج لفظ 'خوشی' کا مفہوم و تعریف ہی بدل ڈالتے ہیں اور شائد یہیں دشتِ تنہائی کا بھولا بھٹکا ہم خیال مسافر مل جائے. عزتِ نفس بھی بڑی ظالم شئے ہے ، اسی خوف سے دھیمی دھیمی آواز سے اسی بے نام مسافر کو پُکارنا شروع کیا کہ شائد کوئی ہم رکاب سُن لے، پھر پتہ نہیں کب یہ آوازیں چیخوں میں بدل گئیں اور آخر کار انہیں ایک بے بس خامشی نے ڈھانپ لیا کہ سننے والا شائد کوئی تھا ہی نہیں.
پھر دِل میں ایک ہلکی سی اُمید نے سر اُٹھایا کہ شائد اِس بیا باں کے سارے مُسافر چیخ رہے ہیں اور تمہاری آواز کی دب سی گئی ہے تو خامشی سے سننا اور سمت کا تعین کرنا جِلا بخشے.
پھر ان بے بس صداوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شُروع ہوا جو شائد ہر طرف سے سنائی دے رہی تھیں. وقت و زماں کے جھمیلوں میں بھٹکنے سے بھی سمت کا تعین کرنا ناممکن ٹھہرا. رفتہ رفتہ یہ صدائیں بھی چیخوں میں بدل گئیں اور ایک ناقابلِ برداشت شور کی شکل اختیار کر گئیں. چار و ناچار کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور آنکھیں بند کر لیں کے شائد اس شور سے چھٹکارا حاصل ہو لیکن یہ شور تو بڑھتا ہی جا رہا تھا. مگر شائد یہ تو میرے ہی اندر ماضی کے پردوں میں پنہاں نیم مُردہ صداوں کا شور تھا.
پھر نا جانے کیوں چہرے کے شکنوں سے جھلکتے ہوئے کرب کی جگہ ایک پُرسرار سی مسکراہٹ نے لے لی، آنکھیں کھولیں تو وہی بھٹکتی ہوئی روحوں کا ایک بے ہنگم ہجوم اپنے ہی اندر اِس مظہر سے جنگ لڑتے منتظر پایا .
یوں محسوس ہوا جیسے یہ کرب لادوا ہے اوریہ ایک ایسی پہیم تاریکی کو جنم دے رہا ہے کے جہاں اپنے آپ کو گُم ہوتے ہوئے پایا. کہاں سے دوا لاوں اس کرب کی کہ کُچھ مداوا ہو.
پھر مُحسوس ہوا میں ہی بھٹکا ہوا ہوں، کی جِس ہستی لازوال نے قلم کو پیدا کر کے فرمایا لکھ تو قلم چل پڑا اور ہمیشہ ہمیش تک جو ہونا والا تھااُ سے اس نے لکھ ڈالا. تو وہ ہستی تو میری سانس سے بھی قریب ہے تو اس سے اعلیٰ پناہ گاہ کہاں.
پھر خیال آیا کہ یہ رستہ تو دِل کا ہے، مگر یہ دل تو لغزشوں سے سیاہ ہو گیا ہے اور اس دُنیا کی خواہشات کی ٹھوکروں نے اسے پاش پاش کر دیاہے کہ اپنا چہرہ بھی اس آئینے میں مسخ نظر آیا یا شائد یہ شکستہ آئینہ ہی جِلا کی امیدنو ہے کہ اُس ذاتِ علیم سے بڑھ کر دِل کے حال کا محرم کون ہے.
آو یہ آئینہ ، بارگاہِ آئینہ ساز میں پیش کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ وہ اِسے بدل دے اور ایسا فرما دے جیسے" مطمعن القلوب" اُسے پسند ہیں.
تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں
