ابنِ آدم اور تنہائی
ابنِ آدم اور تنہائی
میں نے ایک تنہا شخص کو دیکھا جوذندگی سے اُچاٹ ، اپنی ہی ذات کی غلام گردشوں میں محوِ رقص تھا۔ صناعت سے بھرپور رنگینیِ شب و روز اُس کے لئے بے معنی تھی اوراُسکی ذات کِسی انجان منزل کے بے مہارمسافر کی مصداق تھی۔ اُسکے حلقہِ احباب بھی اُس کی تنہائی کو کم نہ کر سکے اور دشتِ تنہائی میں بھٹکنا ہی اُسکا محورِ حیات ٹھہرا۔
پھر ایک دِن کالے بادل اُمڈ آئے جیسے کِسی حسیں دوشیزہ کی کاکلیں ہوں اورآسمان بھی کھُل کے برسا ۔ کہیں بادِصبا رقصاں تھی تو کہیں پتوں نے پاذیب پہنی۔ قدرت کی رنگینی کُچھ یوں نکھری کے ہرجاپیغامِ حیاتِ نو گونجھنے لگا، یہ تنہا شخص بھی بادِ صبا کا ہم رکاب ہوا اور حسین وادیوں کی طرف چلا تاکہ اِس حیاتِ نو کے پیام سے روشناس ہو سکے جو شائد اِسکی تنہایوں کا مداوا ہو۔
حسین وادیوں میں بادِصبا اُسے میٹھی لوریاں سناتی اور اُس سے لپٹ لپٹ جاتی جودلِ میں سوندھے تصورات کو جگائے دیتی تھی۔ لیکن شائد تنہائی ہی اُسکی محبوبہ تھی۔
مخملی گھاس نے اُسے بچھونا دیا جو کمخاب اور ریشم کوبھی رِد کئے دیتا، لیکن شائد اپنی محبوبہ سے بے وفائی اُسکی زیست میں نہیں تھی۔
جھرنے ایک لافانی سُر چھیڑ رہے تھے جِس پہ گلِ کمیاب رقص کر رہے تھے۔ لیکن شائد تنہائی کے زیرِلب گیت جو اُس نے اپنی قوتِ سماعت سے سنے اِس لافانی سُر سے بدرجہا افضل تھے۔
آفتابی کرنوں نے بھی اُسکے دِل کے نو شگفتہ غنچوں سے اٹھکیلیاں کرنےکی سعی کی، لیکن شائد یہ سب کُچھ اُسکی محبوبہ کی محبت سے ہیچ تھا۔
اور پھر اُداس شام نے اُجالوں پہ ہاوی ہونا شروع کر دیا ۔ لیکن یہ تنہا شخص، تنہا ہی رہا، “ذندگی سے اچاٹ”
