منزلِ اعتقاد
منزلِ اعتقاد
کُل شب جب رات کے دھندلکے نے دِن کے اُجالے کو اپنی عمیق سیاہ چادر سے لپیٹ لیا تو میں شہر کی رنگینیوں سے دُور نِکل آیا تاکہ قدرت کے مظاہر کو قریب سے دیکھ سکوں جِس سے شائد میری قوتِ اعتقاد کو جِلا ملے۔
کائنات کی لامحدود وسعتوں کو دیکھ کر مُجھے یوں محسوس ہوا جیسے وقت کی پرچھائیوں نے ہر لمحہ میرے اعتقاد کو متزلزل کیا اور وہ قوتِ خیال جو ایک طفل کو بنیادِ اعتقاد کے لیے عطائے خداوندی ہوتی ہے وہی قوتِ خیال مجھ میں شائد مر سی گئی۔ وقت کے ہر موڑ پر منطق نے میری قوتِ خیال کو ایک نیا رنگ دیا اور اِس نیرنگے خیال کی قوت میں میری قوت خیال جو کبھی میری بنیادِ اعتقاد بھی تھی کہیں گُم سی ہو گئی۔
مُجھے یوں لگا جیسے وقت کے ساتھ با شعور ہونے کے بجائے میں بے شعور ہوتا چلا گیا یا شائید “شعور” کی اصل تعریف کو وقت نے دھندلا دیا جِس سے میں اپنی شناخت اور اصل سے دور ہو گیا۔ وقت کے ساتھ پختہ خیالی نے انسانی سوچ پر ایسے پہرے بٹھا دیے کے وہ منطق سے ہٹ کر سوچنے کی قوت سے عاری یا شائد باغی ہو گیا۔ اِسی نا سلجھنے والی گُتھی کو سُلجھاتے ہوئے میرا ذہنِ سوچوں کے خود ساختہ بھنور میں گُم ہو گیا اورنا چاہتے ہوئے بھی میں نے خُود کوسوچوں کے اِس دھارے کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔
ابھی میں گُم گشتہ قوتِ خیال ، قوتِ اعتقاد اور وقت اور شعور، لا شعور کے باہم ربط کی گتھیوں کو اپنی منطق سے سُلجھانے کی کوشش میں مصروف تھا کے مُجھے اِس بیابان میں دور ایک سایا نظر آیا جو لمحہ بہ لمحہ قریب ہوتا جا رہا تھا۔ مُجھے یوں محسوس ہوا کے وہ اعتقاد کی منزل کا مسافر ہو اور وقت اور قوتِ اعتقاد کی باہم جنگ سے چھٹکارا پانے والوں میں سے ہو۔
قریب ہوتے ہی سائے نے ایک ادھیڑ عمربزرگ کی شکل لے لی جو بُمشکل اپنے نخیف جسم کو نیم مردہ ٹانگوں سے گھسیٹتے ہوے میرے پاس سے گزرتے ہوئے ایک لمحہ کے لیے رُک کر مُجھ سے یوں گویا ہوئے:
“کیا تم بھی اعتقاد کی منزل کے مسافر ہو” اور میری آنکھوں میں مریدہ یاس کے سایوں کے سوا کُچھ بھی نہ تھا !!!
